حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ – حصہ اول

حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ – حصہ اول

مکہ مکرمہ میں قریش خاندان کے کعب بن لوی کے تین بیٹوں کے نام عدی حسینہ اور مرہ تھے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اجداد عدی تھے۔ انکا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سے جا ملتا ہے، جن کے اجداد مرہ تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ولادت سال فیل سے تیرہ برس بعد اور ہجرت نبوی سے چالیس سال قبل 582ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام ختمہ بنت ہاشم بن مخیرہ تھا۔ ان کے ماموں کا نام ابو جہل تھا۔ ان کے والد خطاب بن نفیل قبیلہ کے ممتاز لوگوں میں سے تھے۔ ان کی کنیت ابو نص تھی۔ وہ پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ ان کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہلوانی اور شہسواری کا بہت شوق تھا۔ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طویل القامت ہونا انہیں دوسروں سے منفرد اور نمایاں کر دیتا تھا۔ وہ ایک متین اور منصف مزاج شخص تھے۔ وہ اکثر قبائل کے مابین تنازعات حل کرنے کے لئے سفارت کا کام کرتے تھے۔ وہ سرخ و سفید رنگت کے باوقار اور سنجیدہ شخص تھے۔ انہیں اپنے آبائی مذہب سے پیار تھا اور وہ جاہلیت کے زمانے کی رسموں کو پسند کرتے تھے۔ ان کی طبیعت میں خود اعتمادی اور سختی تھی۔ اس لئے انہوں نے ابتدا میں مسلمانوں کو بہت اذیتیں دیں۔ وہ بہت دور اندیش اور بہادر انسان تھے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس وقت ان کی عمر ستائیس برس تھی۔

ایک دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ننگی تلوار ہاتھ میں لئے گھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ختم کرنے کی نیت سے نکلے ۔ راستے میں حضرت نعیم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان کا خطرناک ارادہ بھانپ لیا۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتلایا کہ پہلے وہ اپنے گھر کی خبر لیں کیونکہ ان کے بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت حیران ہوئے۔ وہ بپھرے ہوئے اپنی بہن کے گھر پہنچے ۔ اس وقت حضرت خباب بن الارث رضی اللہ عنہ انہیں قرآن مجید پڑھا رہے تھے ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر ڈر کے مارے چھپ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کو مارا پیٹا۔ ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب نے بڑی جرات کر کے انہیں بتایا کہ ہاں، انہوں نے اللہ کا دین قبول کر لیا ہے اور اب وہ مسلمان ہو چکے ہیں۔ بہن کی حالت دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پشیمان ہوئے اور بولے کہ وہ جو کچھ پڑھ رہے تھے انہیں بھی بتائیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ “پہلے پاک ہو جا ئیں پھر اسے ہاتھ لگائیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غسل کیا اور سورۃ طہ کی آیات پڑھیں۔ وہ بہت متاثر ہوئے اور اسلام کے قائل ہو گئے ۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ پردے سے باہر نکل آئے اور کہنے لگے۔

”اے عمر رضی اللہ عنہ کل ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی تھی کہ اے اللّّٰہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام ( ابو جہل ) میں سے جو تجھے پسند ہو اسے مسلمان کر دے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دعا قبول ہو گئی ہے”۔ 

اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت خباب رضی اللہ عنہ دونوں دار ارقم کی طرف گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند گنتی کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مقیم تھے۔ انہوں نے دروازے پر دستک دی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا آنے دوا گر وہ نیک ارادے سے آیا ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اس کا سر اُسی کی تلوار سے اڑا دوں گا”

دروازہ کھول دیا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے اور فوراً دین اسلام قبول کرلیا۔ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت حوصلے والے اور دلیر شخص تھے ۔ نبوت کے چوتھے سال وہ مسلمان ہوئے تھے ۔ انہوں نے ایمان لاتے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اصحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیا اور خانہ کعبہ میں جا کر سب نے مل کر وہاں نماز پڑھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان بھی کیا ۔ قریش حیران و پریشان انہیں دیکھتے ہی رہ گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ماموں عاص بن وائل نے انہیں اپنی پناہ دینا چاہی مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللّّٰہ مسلمان ہونےوالے چالیسویں شخص تھے ۔ اس وقت نبوت کے پانچویں سال کا آغاز تھا۔ مشرکینِ مکہ مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھا رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ بھی کفار کے عتاب کا نشانہ بنے۔

تیرہ نبوی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کا حکم دیا۔ مسلمانوں نے چھپ چھپ کر چھوٹے چھوٹے قافلوں کی صورت میں مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ جانا شروع کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سمیت خانہ کعبہ میں جا کر اپنی ہجرت کا اعلان کیا اور سب کی آنکھوں کے سامنے بہت دلیری سے اپنے اہل وعیال کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہو گئے ۔ انہوں نے قبا پہنچ کر رفاعہ بن عبد المنذر کے ہاں قیام کیا۔ اس کے بعد مدینہ منورہ پہنچے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اسلامی بھائی چارہ حضرت عتبہ بن مالک سے قائم کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ مسلمانوں کو نماز کے لئے اکٹھا کرنے کے لئے بلند آواز سے بلایا جانا چاہئے۔ چنانچہ پانچ وقت کی نمازوں کے لئے پانچ وقتوں کی اذانوں کا حکم ہوا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں حصہ لیا۔ غزوہ بدر میں اپنے ہاتھوں سے میدان جنگ میں اپنے مشرک ماموں عاص بن ہشام بن مخیرہ کو ہلاک کیا۔ غزوہ احد میں بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت بہادری سے لڑے۔ جب کفار میدان سے جانے لگے تو ابوسفیان نے درہ کے قریب آ کر پکارا کہ کیا ( حضرت ) محمدؐ ابو بکرً یا عمرً زندہ ہیں؟ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہ یہ سب ضرور مارے گئے ہوں گے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چپ نہ رہ سکے اور بولے “اے دشمن خدا! ہم سب زندہ ہیں”

ابوسفیان نے کہا

“اے ہبل بلند ہو”

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ

“خدا بلند و برتر ہے”

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے داماد تنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ بدری تھے ۔ تین ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ بیوہ ہو گئیں۔ عدت ختم ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللّٰہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ غزوہ بنی نضیر غزوہ خندق، صلح نامہ حدیبیہ اور بیعت الرضوان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے۔ آپؐ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک زمین کا قطعہ عنایت کیا جسے ثمخ کہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس قطعہ کو اسلام کی راہ میں وقف کر دیا۔

سات ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس مجاہدین کو قبیلہ جوہوازن کی ایک شاخ تربہ کی سرکوبی کے لئے بھیجا گیا جو مکہ مکرمہ سے چار رات کے فاصلے پر تھا۔ ان کی خبر س کر مخالفین بھاگ گئے اور بغیر جنگ لڑے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتحیاب ہوئے۔ 

آٹھ ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غزوہ مکہ غزوہ حنین اور محاصرہ طائف کی مہمات میں شرکت کی ۔ نو ہجری میں غزوہ تبوک ہوا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا اثاثہ لا کر جنگ کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا۔ اس غزوہ میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ شامل تھے۔ یہ غزوہ بھی بغیر جنگ کئے مسلمانوں نے فتح کر لیا۔ دس ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجتہ الوداع میں شرکت کی۔

مکہ مکرمہ سے واپس آنے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بارہ ربیع الاول کے دن وصال فرما گئے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہاتھ میں تلوار لئے مسجد میں غم وغصہ سے چلا چلا کر کہہ رہے تھے۔ 

“خبر دار! اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہو جانے کا کہے گا تو اس کو قتل کر دوں گا۔” 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں چپ کرانا چاہا مگر وہ مشتعل ہو چکے تھے۔ آخر کار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خود تقریر شروع کر دی اور قرآن پاک کی آیت کی تلاوت کی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ اس دوران سقیفہ بنی ساعدہ کے فتنے کی اطلاع مسجد میں پہنچی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فوراً حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو ساتھ لیا اور اجلاس میں پہنچ گئے ۔ انصار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ کافی لے دے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی جرات کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما اور بیعت کر لی۔ ان کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے

صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بیعت کر کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا۔

حضرت ابو بکر صدیق سوا دو سال تک مسند خلافت پر رہے۔ اس کے بعد وہ علیل ہو گئے تو انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جانشین نامزد کیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وصیت لکھی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سخت مزاجی کا خدشہ ظاہر کیا مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خلافت کے بوجھ سے وہ خود بخود نرم ہو جائے جائیں گے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا

“میں عرض کروں گا کہ خدایا! تیرے بندوں میں سے ایسے شخص کا انتخاب کیا تھا جو اس عہدے کے لئے سب سے زیادہ موزوں تھا “

اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حاضرین کو مخاطب کیا۔

میں نے اپنی دانست میں جو بہترین شخص ہیں، انہیں جانشین نامزد کیا ہے۔ میں اپنے کسی رشتہ دار یا عزیز کوخلیفہ نہیں بنارہا بلکہ عمرضی اللہ عنہ کو نامزد کر رہا ہوں۔” 

تمام لوگوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ حضرت ابوبکر ضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسند خلافت سنبھالی۔ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی نامکمل مہمات کی تکمیل کی طرف توجہ دی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق مثنٰی رضی اللہ عنہ کو امداد بھیجی۔

جاری ہے۔۔۔

مآخذ: مسلمان فاتحین از ڈاکٹر نذیر احمد پراچہ

کاوش: محمد سجاد منیر رامے ایڈووکیٹ

Part-1 Part-2  Part-3

 More from Bulletin Observer 

You May Also Like

2Comments

Add yours

+ Leave a Comment