دارالہدی اسلامک یونیورسٹی :علم وآگہی کا عظیم مینارۂ نور

دارالہدی اسلامک یونیورسٹی :علم وآگہی کا عظیم مینارۂ نور



آج جس عظیم دانشگاہ کا تعارف پیش کرنے جا رہا ہوں وہ کوئی مدرسہ یا دارالعلوم نہیں بلکہ چار دہائیوں سے پورے ہندوستان میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے والے تعلیمی مشن ہے جیسے ہم پیار سے دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کہتے ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ ایک یونیورسٹی کو تعلیمی مشن سے کیوں تعبیر کیا جارہا ہے تو سنئے یہ وہی عظیم دانشگاہ ہے۔ جس کی تربیت سے ایک گم نام مچھلی فروش کا فرزند آج صاحب قلم وقرطاس ہونے کے ساتھ مسند تدریس کا شہسوار بھی ہے۔ وہ اور کوئی نہیں فقیر کولاری ہی ہے۔ سن 1999میں جب یہ ادنی طالب اس کے صحن میں قدم رکھا تھا اس وقت اس کی حالت ایک کورے کاغذ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ گویا وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـاۙ-وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَۙ-لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ( سورۃ النحل -78 ) یعنی اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ اوپر جو میں اپنا تعارف پیش کیا اس سے کوئی یہ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ میں خود کی تعریف وتوصیف کرکے خود اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کوشش کررہا ہوں یا شیخی بگار رہا ہوں یہ ہرگز نہیں۔ جو کچھ کہا گیا وہ صرف اور صرف تحدیث نعمت کے طور پر تھا ورنہ ہماری حیثیت ایک ذرئے بے مقدار سے بھی کم تر ہے۔ چلئے آمدم برسرِ مطلب میں دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کی بات کررہا تھا یہ جنوبی ہندوستان کا وہ عظیم علمی دانشگاہ ہے جہاں سے سینکڑوں تشنگانِ علوم نبویہ نے اپنی علمی تشنگی بجھائی اور آج بھی بحمداللہ بجھارہے ہیں۔

1986 میں چند خدا ترس ودور اندیش مخلص بندوں کے ہاتھوں سے اس عظیم علمی دانشگاہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ جن میں صوفی باصفا علامہ عیدروس مسلیار، مفکر قوم وملت علامہ یم یم بشیر مسلیار اور ہمدرد قوم مفکر اسلام ڈاکٹر یو باپوٹی حاجی ۔ اللہ تعالی ان کی قبروں کو بقعۂ نور بنائے اور ان کی پاک تربت پر اپنے انوار وبرکات کی بارش برسائے ۔ قابل ذکر ہیں۔ چالیس سال قبل ایک سنگلاخ اور کیچڑ و پانی سے بھرا ہوا میدان جسے مٹی ڈال کر بھرا گیا اس وقت چند بداندیش لوگ طعنہ زنی کرتے رہے کہ قوم کا پیسہ پانی میں بہایا جارہا۔ اور چند بدبخت لوگ اس مخلص ودور بین ودور اندیش برزگ کو پاگل ودیوانہ تک کہہ گئے۔ لیکن اس مستانۂ خدا کی نظر کچھ اور ہی دیکھ رہی تھی کیا خوب کہا شاعر نے

دیوانے کی نظروں کو جہاں دیکھ رہا ہےدیو

دیوانہ خدا جانے کہاں دیکھ رہا ہے

تحقیر سے دیوانے کو دیوانہ نہ کہنایو

دیوانہ بڑا سوچ کے دیوانہ بنا ہے۔

اس دیوانۂ مے الست نے یہ خواب دیکھا تھا کہ یہ علمی گلشن چند سالوں بعد پورے ہندوستان میں تعلیمی انقلاب پیدا کریں گا۔ الحمد للہ آج اس دیوانۂ خدا کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے اور میرا ایمان یہ کہتا ہے کہ دارالہدی کے صحن مسجد میں اپنی آخری آرام گاہ میں آسودۂ خاک ہوکر بھی ان کی آنکھیں ٹھنڈک ہو رہی ہوں گی کہ جس مقصد کے لیے میں نے اس چمن کو اپنے دن رات کی محنتوں سے سینچا آج وہ اپنے مقصد اور نصب العین کی طرف رواں دواں ہے۔کیرالا کے اندر الحمدللہ ثم الحمدللہ تیس سے زائد شاخیں اسی تعلیمی نہج پر قائم ہیں۔ جو ترقی کی راہیں طے کر رہے ہیں۔ اگر بیرونی کیرالا کی بات کی جائیں تو بنگال سے آسام، آندھرا پردیش سے کرناٹک اور مہاراشٹرا میں بھی اس کے سب سنٹرس اور آف کیمپس ہیں جہاں نونہالانِ اسلام کو دینی واعلی دنیوی تعلیم سے آراستہ کیا جارہا ہے ۔ پانچ ہزار سے زائد ہدوی فارغین ہند وبیرون ہند میں دینی، ملی ، تعلیمی اور سماجی خدمات میں سرگرم عمل ہیں۔

جامعہ دارالہدی کے فارغین دیگر دینی جامعات کے فارغین سے ممتاز ہیں۔ کیونکہ اکثر وبیشتر مدارس دینیہ کے فارغین اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدرسے کی طرف کبھی رخ نہیں کرتے۔ لیکن دارالہدی کے فارغین تکمیل تعلیم کے بعد بھی دارالہدی سے ہمہ وقت منسلک رہتے ہوئے بانیان دارالہدی کے مشن کی تکمیل وتعمیل میں لگے رہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ جامعہ دارالہدی کے فارغین کی سرپرستی میں ہندوستان کے بارہ مختلف ریاستوں میں ڈھائی ہزار سے زائد ابتدائی مکاتب جن میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد نونہالان اسلام اسلام سے روشناسی حاصل کر رہے۔ ہم نے تعلیم اس لیے نہیں کہا کہ یہ ابتدائی مکاتب ان جگہوں میں مصروف عمل ہیں جہاں مسلمان اسلام کی بنیادی اصول وضوابط سے بھی ناواقف تھے۔ آج ہادیہ (فارغین دارالہدی کی غیر سیاسی عالمگیر تحریک) کی انتھک محنت وکاوشوں سے ان بچھڑے علاقوں میں دینی فضا قائم ہیں۔

اگر ہادیہ کی تمام خدمات کا جائزہ لیں تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ ایک دینی ادارے کے فارغین اتنا سب کچھ کرسکتے ہیں!!! اس کے علاوہ ہادیہ کی نگرانی میں عالمی سطح پر آن لائن مدارس بھی منظم طریقے سے چلتے ہیں۔ اور ہندوستان کے چند ریاستوں میں معیاری انگلش میڈیم اسکول بھی قائم ہیں۔

قدیم دور میں یہ مثل بہت مشہور تھا کہ ملا کی دوڈ مسجد ومدرسے تک لیکن دارالہدی کے پروردہ اور فیض یافتہ ہدوی فارغین نے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ یہ مثل چھوٹا ثابت ہوگیا۔ ہدوی فارغین یونیورسٹی، اسکولس، دینی جامعات، آئی ٹی کمپنیز اور نا جانے کہاں کہاں خدمات انجام دیے رہے ہیں۔ان میں کچھ ایسے بھی فارغین ہیں جو خود کی نجی کمپنیاں چلاتے ہیں۔ اگر دینی خدمات کا جائزہ لیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کیرالا اور پڑوسی ریاستوں میں ہر دینی ادارے میں آپ کو کوئی نہ کوئی ہدوی فاضل ملے گا۔ وہ ہدوی فاضل بیک وقت درسی نظامی کی متداول کتابوں کے ساتھ اسکول کے تمام موضوعات پڑھانے میں کامل دسترس رکھتا ہے۔ ان فارغین میں کتنے مصنفین، قلمکار، کہنہ مشق شعراء اور خطباء موجود ہیں۔ اگر سب کی الگ الگ فہرست تیار کی جائیں تو ضخیم مجلدات درکار ہوں گی۔

دینی ودنیوی کی تعلیم کا حسین سنگم ہے دارالہدی اسلامک یونیورسٹی۔ اللہ اس تعلیمی گلشن کو تا قیام قیامت تک آباد رکھے۔ جہاں اس کی شہرت اوج ثریا کو چھو رہی اور اس کے خیر خواہ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں وہیں اس کے حاسدین کی فہرست بھی کافی طویل ہے۔ کچھ نام نہاد دنیا پرست ودین وملت فروش مولوی دارالہدی کو بدنام کرنے میں اپنی پوری قوت اور مال وزر صرف کرتے تھکتے نہیں۔میں تو کہتا ہوں ایسے حاسدین بھی ہونا چاہیے کیونکہ انہیں کی بدولت بہت سارے لوگ دارالہدی کے مشن سے جڑ رہے ہیں۔ یہ دارالہدی کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن

کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا

جہاں دارالہدی کی ترقی میں مفکر اسلام مفسر قرآن استاذی الکریم حضرت علامہ ڈاکٹر بہاؤ الدین محمد شاذلی ملیباری حفظہ اللہ کی انتھک جدوجہد کارفرما ہے وہیں بانیان دارالہدی کی للہیت ، خلوص اور تقوی شامل ہے۔ آج اللہ تبارک وتعالی کے فضل و کرم اور حبیب پاک ﷺ کے صدقے طفیل دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کے اس تعلیمی مشن سے پندرہ ہزار سے زائد طلبہ جڑے ہوئے ہیں اور اپنے روشن و تابناک مستقبل کے لیے انتھک محنت وکاوش کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دارالہدی نے اس چالیس سال میں امت مسلمہ میں تعلیمی انقلاب بپا کیا ہے۔ لہذا ہم جملہ فارغین اور فیض یافتگان دارالہدی اراکین جامعہ، شیوخ جامعہ واساتذہ اور عوام الناس کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے امت مسلمہ کی نشأۃ ثانیہ میں ان بزرگان دین کا بھرپور تعاون کیا اور اس تعلیمی مشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مدد کی۔ ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کے تمام مسلمانوں سے مخلصانہ ودردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کے لیے پریشان ہیں تو آئیے دارالہدی کے مشن کے ساتھ جڑ کر بچوں کے مستقبل کو روشن بنائیں اور جہالت کے داغ کو دھلنے کی کوشش کریں۔ دارالہدی اس زمانے میں امت مسلمہ کے لیے بالخصوص اہلیان ہند کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ جو کچھ سپرد قرطاس کیا گیا ہے یہ کوئی مستقل دارالہدی کا تعارف نہیں بلکہ میرے ذہن کے منتشر احساسات اور اپنے مادر علمی کے تیئن عقیدت وجذبات ہیں جیسے میں نے جلدی جلدی الفاظ کا پیراہن پہنا دیا اگر کہیں خامی نظر آئیں تو سمجھیں کہ وہ ہماری کم بضاعتی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب قدیر بانیان دارالہدی کو اجر جزیل عطا فرمائے۔ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چل کر امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے آمین


More Entertainment News

You May Also Like

+ There are no comments

Add yours