رمضان المبارک کے فضائل و برکات

3
(2)

تحریر و تحقیق: محمد حسن اعجاز
الکرم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ، بھیرہ،سرگودھا۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ کا بے حد اِحسان ہے کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اِس ماہ مقدس کی ہر گھڑی رَحمت بھری ہے۔

رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب ستر (70) گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔
(مراٰۃ ج۳ص۱۳۷)

نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر (70) گنا کردیا جا تا ہے ، عرش اُٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دُعا پر آمین کہتے ہیں اور فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مطابق ’’ رَمضان کے روزہ دار کیلئے مچھلیاں اِفطار تک دُعائے مغفرت کرتی رہتی ہیں ۔ ‘‘
(اَلتَّرغیب والتَّرہیب ج ۲ ص ۵۵ حدیث ۶)

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالی شان ہے: ’’ روزہ عبادت کا دروازہ ہے۔ ‘‘
(اَلْجامِع الصَّغِیر ص۱۴۶حدیث۲۴۱۵)

اِس ماہِ مُبارَک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ عَزّوَجَلَّ نے اِس میں قراٰنِ پاک نازِل فرمایا ہے۔

چنانچہ پارہ 2 سورۃ البقرۃ آیت 185 میں مقدس قراٰن میں اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے :

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِۚ-فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ-وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۱۸۵)

ترجمہ:
رَمضان کا مہینا ، جس میں قراٰن اُترا، لوگوں کے لئے ہدایت اور رَہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں ، تو تم میں جو کوئی یہ مہینا پائے ضرور اِس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو، تو اُتنے روزے اور دِنوں میں ، اللہ عَزّوَجَلَّ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دُشواری نہیں چاہتا اور اِس لئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ عَزّوَجَلَّ کی بڑائی بولو اِس پر کہ اُس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو ۔

حضرت سَیِّدُنا جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے: میری اُمت کو ماہِ رَمضان میں پانچ چیز یں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں :
{۱} جب رَمَضانُ الْمبارَک کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ عَزّوَجَلَّ ان کی طرف رَحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اللہ عَزّوَجَلَّ نظر رَحمت فرمائے اُسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا.

{۲} شام کے وَقت ان کے منہ کی بو (جوبھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اللہ تَعَالٰی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے.

{۳} فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں.

{۴} اللہ تَعَالٰی جنت کو حکم فرماتاہے: ’’ میرے (نیک ) بندوں کیلئے مُزَیَّن ہووجا عنقریب وہ دنیا کی مَشَقَّت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے.

{۵} جب ماہِ رَمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ عَزّوَجَلَّ سب کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔ قوم میں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! کیا وہ لَیلَۃُ الَقَدْر ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’ نہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مزدور جب اپنے کاموں سے فارِغ ہوجا تے ہیں تو اُنہیں اُجرت دی جا تی ہے۔ ‘‘ (شُعَبُ الایمان ج۳ص۳۰۳حدیث۳۶۰۳)

حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ماہِ شعبان کے آخری دن بیان فرمایا: ’’اے لوگو! تمہارے پاس عظمت والا بَرَکت والا مہینا آیا، وہ مہینا جس میں ایک رات (ایسی بھی ہے جو ) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اِس (ماہِ مُبارَک ) کے روزےاللہ عَزّوَجَلَّ نے فرض کیے اور اِس کی رات میں قیام تَطَوُّع(یعنی سنّت) ہے، جو اِس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تَو ایسا ہے جیسے اور دِنوں میں 70 فرض ادا کیے۔ یہ مہینا صَبْر کا ہے اور صَبْرکا ثواب جنت ہے اور یہ مہینا مُؤَاسات(یعنی غمخواری اور بھلائی ) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رِزق بڑھایا جا تا ہے۔جو اِس میں روزہ دار کو اِفطار کرائے اُس کے گناہوں کے لئے مغفرت ہے اور اُس کی گردن آگ سے آزاد کردی جا ئے گی اور اِس اِفطار کرانے والے کو وَیسا ہی ثواب مِلے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا، بغیر اِس کے کہ اُس کے اَجر میں کچھ کمی ہو۔ ‘‘ ہم نے عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ اِفطار کروائے ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تَعَالٰی یہ ثواب تو اُس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دُودھ یا ایک کھجوریا ایک گھونٹ پانی سے روزہ اِفطار کروائے (سبحان اللّٰہ) اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کرکھلایا ، اُس کو اللہ تَعَالٰی میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخِل ہوجائے ۔ یہ وہ مہینا ہے کہ اِس کا اوَّل (یعنی ابتدائیی دس دن ) رَحمت ہے اور اِس کا اَوسَط(یعنی درمِیانی دس دن ) مغفرت ہے اور آخِر ( یعنی آخری دس دن ) جہنَّم سے آزادی ہے۔جو اپنے غُلام(یعنی ملازم) پر اِس مہینے میں تخفیف کرے (یعنی کام کم لے) اللہ تَعَالٰی اُسے بخش دے گا اور جہنَّم سے آزاد فرمادے گا۔ اِس مہینے میں چار باتوں کی کثرت کرو، ان میں سے دو ایسی ہیں جن کے ذرِیعے تم اپنے ربّ عَزّوَجَلَّ کو راضی کرو گے اور بقیہ دو سے تمہیں بے نیازی نہیں ۔ پس وہ دو باتیں جن کے ذرِیعے تم اپنے ربّ عَزّوَجَلَّ کو راضی کرو گے وہ یہ ہیں :
{۱} لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ کی گواہی دینا
{۲} اِستغفار کرنا۔
جبکہ وہ دو باتیں جن سے تمہیں غنا(یعنی بے نیازی) نہیں وہ یہ ہیں :
(۱) اللہ تَعَالٰی سے جنت طلب کرنا
(۲) جہنَّم سےاللہ عَزّوَجَلَّ کی پناہ طَلَب کرنا۔ ‘‘
( شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۳۰۵ حدیث۳۶۰۸، ابنِ خُزَیمہ ج ۳ ص ۱۹۲ حدیث۱۸۸۷)

اس ماہِ مبارک میں کلمہ شریف زیادہ تعداد میں پڑھ کر اور بار بار استغفار یعنی خوب توبہ کے ذریعے اللہ تعالی کو راضی کرنے کی کوشش کرنی ہے اور اللہ تَعَالٰی سے جنت میں داخلے اور جہنَّم سے پناہ کی بہت زیادہ التجائیں کرنی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہ مقدس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 3 / 5. Vote count: 2

No votes so far! Be the first to rate this post.

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Pin It on Pinterest

Translate »