حکم روزہ کی تعمیل۔۔یا۔۔بحر شوق میں غواصی۔۔۔بس مجھے ڈوب جانے دو

5
(1)

از قلم: پروفیسر علامہ محمد اسلم رضوی
(خلیفہ مجاز آستانہ عالیہ بھیرہ شریف) لیکچرار الکرم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ بھیرہ ضلع سرگودھا

انسان اللہ کریم کی قدرت کا حسین ترین شاہکار ہے، مہر و ماہ کی چمک اور ان کا جمال بھی انسانی حسن کا مقابلہ نہیں کر سکتا، با کمال اور بے نیاز مصور نے اس کے وجود پر اور اس کی ظاہری و باطنی صلاحیتوں پر ندرت کاری ہی کمال کی، کی ہوئی ہے، جمیل مطلق نے اپنے اس آئینہ جمال قدرت کی حسین تقویم کی بات کرنے سے پہلے چار قسمیں اٹھائیں۔
والتین،
مجھے قسم ہے مصطفی کی خوراک ہونے کا شرف پانے والی انجیر کی،
والزیتون،اور مجھے قسم ہے محبوب کی زلفوں میں سجنے والے زیتون کی،
و طور سینین،
اور مجھے قسم ہے، صفاتی تجلیات کی ہلکی نمود سے جل کر سرمہ بن جانے والے طور سینا کی،
وھذا البلد الامین
اور مجھے قسم ہے حضرت آمنہ کی گود میں آنے والے در یتیم کے قدمِ ناز کے بوسے لے کر، امن کی خیرات پانے والے اس شہر مکۃ المکرمہ کی،
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
یقینا ہم نے انسان کو حسین ترین تقویم میں پیدا کیا ہے، پہلے شہد سے بڑھ کر سچے اور سچے پیار سے بھری ہوئی چار قسمیں اٹھائیں۔
پھر لام تاکید، پھر قد تحقیق کے لیے،
پھر خلقنا میں جمع کا صیغہ جو کہہ رہا ہے، مصنوع کو دیکھتے ہوئے صانع کو بھی ذہن میں رکھنا، اس حسین مخلوق پر نظر ڈالتے ہوئے ذرا خالق کے دست جمال کو بھی نظر میں رکھنا اور محبوب پر حسن و جمال کی برسات دیکھتے ہوئے ذرا محب کے خزانۂ حسن کی وسعتوں کو بھی پیش نظر رکھنا، اس کے بعد لفظ احسن جو رفعتوں اور بلندیوں کے مفہوم کی پوری کائنات اپنے اندر رکھتا ہے۔
شعورِ محبت سے مالامال کسی خوش نصیب انسان کی نظر جب ان آیات اور ان کے مفاہیم پر پڑتی ہے، تو اس کی روح، فیاض ازل کے صحن قدرت میں بہزار شوق وجد کناں ہوجاتی ہے،
سبحان اللہ
پھر جب انسان اپنے اس تقویمی شرف و عزت کو سنبھالتے ہوئے بلکہ اس کو چار چاند لگاتے ہوئے، ایمان و اسلام و احسان کی ٹکٹ کے ساتھ اپنے محبوب حقیقی کے حریم قدس میں شعور سے بھری عقل اور محبت سے معمور دل کے ساتھ داخل ہوتا ہے، تو مالک کریم کے اس سے بات کرنے کے انداز بھی بڑے منفرد ہوتے ہیں،
ذرا اس پیار بھری صدا میں دیکھئے تو سہی۔۔۔۔انس اور محبت کی کتنی دنیائیں آباد ہیں۔
ارشاد ربانی ہے:
یا ایھا الذین آمنوا
عام طور پر اس کا ترجمہ یہی کیا جاتا ہے، اے ایمان والو، یا اے وہ لوگو جو ایمان لاچکے ہو، یہ ترجمہ بلکل درست ہے، اس میں اعتراض والی کوئی بات نہیں لیکن چونکہ لوگوں کے ایمان کے درجات اور ان کی باطنی کیفیات مختلف ہیں اس لیے ان کلمات کا درج ذیل سطور میں بھی مفہوم بیان کیا جاسکتا ہے، اور اپنی روح کو بحر عرفان میں غوطہ زن کیا جا سکتا ہے،
اے اپنی زبان کو میری محبت کے اقرار، اور اپنے دل کو میری محبت کا ظرف بنا کر، اس کی تصدیق کرنے والو!👈
اے فریفتگان جمال مطلق!👈
اے شیفتگان حسن ازل!👈
اے وعدہ الست کو نبھانے کا پیمان باندھنے والوں!👈
اے میرے پیار کی بھاری گٹھڑی بصد شوق اٹھانے والو!👈
اے اپنائیت کی دولت سے مالا مال خوش نصیبو!👈
اے تڑپتا دل اور میری محبت میں برستی آنکھیں رکھنے والے سیماب فطرت عاشقو!👈
اے اپنے گوش ہوش کو میری صدائے محبت کے لیے وقف رکھنے والے بیداربختو!👈
اے میرے محبوب کی حسین اداؤں میں میرے حسن کی دولت پا لینے والے صاحبان بصیرت!👈
اے دنیا کی دلکشی سے دست کش ہو کر ہمیشہ میری ملاقات کا جنون رکھنے والے ارباب ذوق!👈
مذکورہ بالا تمام کلمات تخاطب کی لطافت قاری (اپنی لطیف مزاجی کے حساب سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش محبت میں، قرآن سننے والے آپ کے نواسے جناب سید نا امام حسن رضی اللہ عنہ کے اس واقعے سے کچھ نہ کچھ سمجھ سکتا ہے کہ حضرت شہزادہ بتول سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ جب قرآن مقدس کی تلاوت فرماتے ہوئے۔۔۔۔ یا ایھالذین آمنوا کے کلمات طیبات پر پہنچتے، تو دل کے سمندر میں محبت کی طغیانی آجاتی،
آنکھوں کے بندھن ٹوٹ جاتے،
لہجے کا گداز سننے والے کو بھی تڑپا دیتا،
ان کلمات پر کمال شوق کے ساتھ عرض کرتے،
لبیک اللہم لبیک
لبیک اللہم لبیک
لبیک اللہم لبیک

اے میرے کشور دل کے سلطان!
میں حاضر۔۔۔بے نیازا، میں حاضر۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہی فرمان محبت نشان ہے، جس بندہ مومن کی خواہش ہو کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے تو اسے چاہیے کہ ظاہری و باطنی آداب کے ساتھ نماز قائم کرے اور جس کی خواہش ہو، کہ کاش میرا محبوب حقیقی عزوجل اس سوختہ جگر سے بات کرے تو اسے چاہیے کہ قلب و روح کی پاکیزگی اور دل و دماغ کی حاضری کے ساتھ قرآن مقدس کی تلاوت کرے تو اسے یہ کیف نصیب ہوجائے گا۔
جب بندہ مومن یاایھا الذین آمنوا کے پر بہار باغ سے خوشبوئیں سمیٹ کر اپنے مشام جان و ایمان کو معطر کر لیتا ہے تو پھر اگلا کوئی حکم بھی مشکل نہیں رہتا، بلکہ یاایھا الذین آمنوا کے نشے میں ہی اگلا سفر کٹ جاتا ہے، مثلا بظاہر روزہ ایک مشکل کام ہے لیکن سب کے لئے نہیں، صرف ان کو بوجھ لگتا ہے، جن کا محبت الہی کا لیول بہت ڈاؤن ہے۔
جیسے جیسے محبت الہی کا گراف بلند ہوتا جاتا ہے، احکام الہی کی تکمیل آسان سے آسان تر ہوجاتی ہے۔
اس کا جلوہ طائف میں پتھروں کی برسات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اور کربلا میں قربان ہوتے ہوئے جگر پاروں کی لاشوں پر ان للہ وانا الیہ راجعون کی تلاوت میں بھی اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
فرمان الہی ہے:
کتب علیکم الصیام
تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔
انسانی ذہن میں سوال آسکتا تھا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ انسان اتنے گھنٹے بھوک پیاس برداشت کرے اور عمل تزویج سے بھی رکا رہے تو اس کنفیوژن کو اگلے جملے میں دور کر دیا بلکہ محبت کی تھپکی دے دی۔
اے مسافران راہ الفت!
گھبراؤ نہیں۔۔۔۔!
پہلی دفعہ تم ہی اس ریاضت میں نہیں ڈالے جارہے ہو، بلکہ تم سے پہلے بھی جنہوں نے ہمارا ہونے کا اقرار کیا تھا، ہم نے ان کو بھی یہ سوغات محبت عطا کی تھی۔
کما کتب علی الذین من قبلکم
یہ روزے تم پر ایسے ہی فرض کئے جارہے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے تھے، یعنی اس تجربہ سے اس سے پہلے بہت سارے اہل شوق گزر چکے ہیں، اس لیے یہ کام انسانی بساط سے باہر نہیں ہے۔
بس تم ہمت کروگے تو منزلیں آسان ہوتی جائیں گی۔
پھر سطح ذھن پر ایک اور سوال نمودار ہوتا ہے کہ
جب تو مجھ سے اتنا پیار کرتا ہے کہ
سورج کو تو نے میرا خادم بنایا،👈
چاند کو مجھے ٹھنڈک پہنچانے پر معمور کیا،👈
پانی میں میرے لئے حیات رکھی،👈
کھیوڑہ کی کان کے پیٹ میں میرے منہ کے ذائقے کا سامان رکھا،👈
چاغی پہاڑ کا سینہ میرے لئے سونے چاندی سے بھر دیا،👈
سمندر پر بارش برسا کر جو موتی تو نے بنائے، وہ تو مجھے ہی دینا چاہتا تھا،👈
خوش ذائقہ پھل تو نے میرے ہی دسترخوان کی لذت بڑھانے کے لیے پیدا فرمائے،👈
جب میں تیرا اتنا لاڈلا ہوں تو پھر تو مجھے بھوکا پیاسا کیوں رکھنا چاہتا ہے؟؟؟؟👈
تو اس سوال کا جو جواب بارگاہ رب العزت سے ملا، اس نے جذب و کیف کی مستیوں کو معراج پر پہنچا دیا،
ارشاد ہوا:
لعلکم تتقون
جب تو اخلاص و للہیت کے جذبہ صادقہ سے مالا مال ہو کر روزہ کی صورت میں خاموش نذرانہ عمل، میری بارگاہ بے نیاز میں پیش کرے گا تو
ہم تمہیں تقوی کی ثروتیں بخش دیں گے،
ہم تمہیں اپنا محرم راز بنا دیں گے،
اور قرب خاص سے نوازیں گے،
پھر شعور کی گہرائی سے ایک سوال نے سر اٹھایا کہ تقویٰ مل جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟؟؟؟
تو حریم قدس سے جواب ملا:
ان اکرمکم عند اللہ اتقکم
بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت اور بزرگی والا وہ ہے جو سامان تقوی میں، تم میں سے زیادہ ہے۔
سعید روحیں قرآن مقدس سے اللہ تعالی کی قربتوں کی نوید مسرت سن کر ہمیشہ آمادہ عمل رہتی ہیں۔👈
.بھوک اور پیاس کی تلخیاں ان کےلیے سد راہ نہیں بنتیں، بلکہ انکے راھوار شوق کو مزید مہمیز لگا دیتی ہیں،👈
ان کی آتش عشق مزید شعلہ زن ہوتی ہے، اور بڑھتی ہے،👈
وہ صرف جسم کو بھوکا پیاسا ہی نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ وہ اپنے معبود برحق اور محبوب مطلق کے سرمدی جلوؤں سے شادکام ہونے کے لیے اپنے وجود کی مکمل نفی پر بھی تیار ہوتے ہیں، اور پھر ان کے سینہ سے یہ صدائے دلبرانہ بلند ہوتی ہے۔
مجھے خاک میں ملا کر میری خاک بھی اڑا دے
تیرے نام پر مٹا ہوں مجھے کیا غرض نشاں سے
جب بندے کی طرف سے شوق بڑھتا ہے، تو مالک کی طرف سے انعامات میں اضافہ ہوجاتا ہے، یہ حدیث قدسی جب بھی پڑھی ہے، اللہ کے پیار کی مٹھاس نے ہمیشہ ہی طبیعت میں ذوق کو کمال پر پہنچا دیا ہے۔
الصوم لی وانا اجزی بہ
اس حدیث پاک میں اجزی بہ کو فعل معروف کی صورت میں بھی پڑھا گیا ہے، اور فعل مجہول کی صورت میں بھی، ان ہر دو آئینوں میں جواد مطلق عزوجل اپنی عنایات خسروانہ کے ساتھ کمال شان سے آمادۂ کرم نظر آتا ہے، سائل اور منگتے کی روح تو اسکے تصور سے حالت رقص و وجد میں آ جاتی ہے۔
اجزی بہ کو معروف پڑھنے کی صورت میں نقشہ:
ویسے تو اللہ کریم کی ذات مبارکہ بے مثل و بے مثال ہے، نہ اس کی تشبیہ ممکن ہے اور نہ تمثیل جائز، لیکن صرف حدیث کا مفہوم سمجھنے، سمجھانے کے لیے مجاز کا سہارا لیا جا رہا ہے اور یہ مجھ عاجز کی مجبوری ہے، اس لئے کہ
ہر چند کہ ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر
کچھ اس لیے بھی حوصلے میں ہوں،کہ مالک بے نیاز کی اپنی سنت قائمہ بھی اسی طرح موجود ہے،
سوال اس کے جلوؤں کا ہو تو وہ طور کے سر پر تجلیات برسا کے ارشاد فرماتا ہے:
ولکن انظر الی الجبل
اے شوق دیدار میں پگھلنے والے پیارے کلیم! پہاڑ کی طرف دیکھو
اگلا منظر نامہ قرآن نے بیان کر دیا:
فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا و خر موسی صعقا
الاعراف (143)
پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو اسے پاش پاش کر دیا اور جناب موسی علیہ السلام بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
اسی طرح اللہ کریم کی ان عنایات کا ایک اور قصہ بھی موجود ہے، جو قرآن کی سورہ یوسف جو احسن القصص ہے، اس کی زینت ہے، تفصیل کے لیے تفسیر ضیاء القرآن یا مثنوی مولانا روم مفید رہے گی، یہاں صرف اشارہ مطلوب ہے، مالک کریم نے جناب حضرت یعقوب علیہ السلام کے ذوق دیدار کی تسکین کا سامان کیا تو حسن مطلق کے جلوے چہرہ یوسف میں رکھ دیئے اور حضرت یعقوب علیہ السلام، چہرہ یوسف علیہ السلام کے پیالے سے شراب توحید پیتے رہے، پھر جب قدرت نے اپنی حکمت سے آئینہ جمال آنکھوں سے اوجھل کیا، تو حضرت یعقوب علیہ السلام جس صدمے سے گزرے وہ سب کے سامنے ہے۔
قرآن کہتا ہے:
وابیضت عیناہ من الحزن وھو کظیم
(سورہ یوسف 81)
اور یوسف علیہ السلام کی جدائی میں روتے روتے ان کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں، غم کے باعث حالانکہ آپ اپنے غم کو ضبط کیے ہوئے تھے۔
اسی طرح قرآن مقدس کی ایک اور داستان بھی ہمیں کچھ حوصلہ بخشتی ہے،
عرصہ دراز تک حضرت موسی علیہ السلام مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چراتے رہے، پھر حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی ایک صاحبزادی، حضرت موسی علیہ السلام کے عقد نکاح میں دے دی، اب آپ اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ اپنے وطن مصر کی طرف واپس پلٹے، جاڑوں کا موسم، جنگل کا ماحول اور یہ مختصر سا قافلہ سوئے منزل رواں دواں، سردی نے گھیرا تو آگ کی ضرورت محسوس ہوئی، دور سے دیکھا آگ چمک رہی ہے، قافلے والوں سے فرمایا تم یہیں ٹھہرو میں آگ لے آؤں، گئے تھے جسم کے لیے حرارت کا اہتمام کرنے لیکن جب قریب پہنچے تو وہاں سلسلے ہی کچھ اور تھے، ایک سرسبز و شاداب درخت آگ میں ڈوبا ہوا تھا، قرآن کی زبان میں:

فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي
پس جب حضرت موسی علیہ السلام آگ کے پاس پہنچے تو ندا دی گئی، اے موسی بے شک میں تمہارا پروردگار ہوں، آپ اپنے جوتے اتار دیجئے، آپ طوی کی مقدس وادی میں ہیں، اور میں نے آپ کو رسالت کے لیے منتخب کر لیا ہے، سو کان لگا کر سنیے، جو آپ کی طرف وحی کی جائے، بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، بس آپ میری عبادت کیجئے اور میری یاد کے لئے نماز قائم کیجئے۔
ویسے تو اللہ کریم مثل و مثال سے پاک ہے لیکن جب چاہتا ہے تو کسی کو سامان شوق بخشنے کے لیے 🌲 درخت🌲 سے بھی صدا لگا دیتا ہے۔
سبحان اللہ
ان تین مثالوں کے بیان کے بعد امید ہے اب مجھے شراب عشقِ الہی مجاز کے کسی خوبصورت ظرف میں ڈال کر آپ کی خدمت میں پیش کرنا آسان ہو جائے گا۔
آمدم بر سر مطلب
حدیث قدسی ہے، الصوم لی وانا اجزی بہ روزہ میری خاطر ہے اور میں خود ہی اس کی جزا دوں گا، وہ انعام اپنی کسی مخلوق، ملائکہ، مقربین سے بھی دلوا سکتا تھا، لیکن فرمایا نہیں میں خود اپنے دست قدرت سے روزے کی جزا عطا فرماؤں گا۔
اہل محبت بخوبی واقف ہیں۔
دست ساقی سے مئے ناب کا مزہ کئی گنا ہو جاتا ہے۔

ذرا تصور کیجیے
کوثر کا جام ہو اور دست مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے مل رہا ہو، تو کوئی ہے جو اس کی لذت کو احساسات کے پیمانے میں ڈال کے سمجھاسکے، ان کے ہاتھ سے تو موت بھی میٹھی ہو جاتی ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے کتنے 🐫 اونٹ🐫 ذبح کیے، ابھی ایک مکمل طور پر ذبح نہیں ہوتا تھا تو دوسرا اونٹ آگے گردن رکھ دیتا تھا اور زبان حال سے کہہ رہا ہوتا تھا۔

میرے محبوب! اپنے دست حسین سے میری رگ جان کاٹیے۔۔۔۔مرنا تو ایک دن تھا ہی۔۔۔۔آج تو مرنے کا بھی مزہ آ رہا ہے۔

دست مصطفی ہو، انسان نہیں اونٹ ہو، اور موت ہو۔۔۔تو نظارے بدل جاتے ہیں، جب ایک جانور یعنی اونٹ دست کرم سے موت کا تحفہ لیکر اتنا مسرور ہے، تو
اگر پینے والا اویس قرنی ہو، جام کوثر ہو، اور دست مصطفی سے مل رہا ہو، تو انکے دل کے کیف و سرور کو کوئی کیسے بیان کر سکتا ہے؟؟؟
اور جب جزائے روزہ ہو، دست قدرت ہو اور وصول کرنے والے صدیق و فاروق رضی اللہ عنھما اور عثمان و حیدر رضی اللہ عنھما ہوں یا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ان کے شہزادے حسنین کریمین رضی اللہ عنھما ہوں یا حسن بصری اور رابعہ بصری ہوں یا بابا فرید اور خواجہ نظام ہوں یا شاہ سلیمان تونسوی اور خواجہ شمس العارفین ہوں، یا حضرت امیر السالکین اور حضرت ضیاء الامت ہوں۔(رحمۃ اللہ علیہم)
تو اس کیف کا تصور بھی ما و شما کے بس سے باہر ہے۔
اگر واُجْزٰای بہ یعنی اسکو فعل مجہول کی صورت میں پڑھا جائے، تو پھر حدیث قدسی کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ روزہ میرے لیے ھے اور میں خود ہی اسکی جزا بن جاؤں گا، انسانی اعمال کے ثمرات کے حوالے سے اس سے بڑا کوئی ثمر اور کوئی اجر نہیں ہے۔
انسانی وجود کے اندر نفس اور ضمیر کا جھگڑا تو چلتا ہی رہتا ہے۔
نفس شیطان کا نمائندہ ہے اور ضمیر رحمان کا نمائندہ ہے۔
اس لحاظ سے ہر انسان کا وجود ہمیشہ میدان جنگ بنا ہوا ہوتا ہے، ہاں کچھ لوگ ایسے بھی نظر آتے ہیں جنکو نفس اپنا مطیع کر کے ان پر حکومت کر رھا ہے، اور بعض ایسے لوگ ہیں، جو نفس کو شکست دے کر ضمیر کی آواز اور قوت کو مضبوط کر کے اپنے وجود کو کشور اطمینان بنا لیتے ہیں اور رضاۓ رحمان کا استحقاق پا لیتے ہیں۔
اگر نفس سوال کرے کہ تو کیوں روزہ رکھ کر اپنے وجود کو ضعف کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو ضمیر اسکو جواب دے سکتا ہے اور لاجواب کر سکتا ہے کہ تجھے معلوم نہیں۔۔۔۔کہ اس چند گھنٹوں کی بھوک پیاس پر کتنا بڑا انعام ملنے والا ہے، جب اللہ میرا ہو جاۓ گا تو ساری کائنات میری ہو جاۓ گی۔
قصۂ محمود و ایاز۔۔۔۔ایک حقیقت کا سراغ
کہتے ہیں۔۔۔۔سلطان محمود غزنوی کا غلام ایاز جب سلطان کی نظر میں بہت اعتبار پا گیا تو اسکی قربت بعض وزراء کو ناگوار گزری، حسد کی وجہ سے وہ ایاز کے بارے میں پراپیگنڈہ کرنے لگے لیکن محمود کو پورا اعتماد تھا، اس نے ایک دن اس بحث کو نکتہ تکمیل تک پہنچا کر اس باب کو بند کرنا چاہا، تو اس نے تمام وزراء کو بلا کر انکے مناصب کے حوالے سے انکے کام کی تحسین کی اور ساتھ کہا۔۔۔۔کہ میں آپ لوگوں سے بہت خوش ہوں، آج میری خواہش ہے، کہ میں ہر وزیر کو وہ انعام دوں جو اس کی ذاتی پسند ہو تو آپ کو اجازت ہے۔۔۔۔۔آپ جس چیز پر ہاتھ رکھیں گے۔۔۔۔وہ آپکے حوالے کر دی جائے گی، وزیر اٹھے کسی نے تجوری پر ہاتھ رکھا، کسی نے اصطبل کے کسی بہترین گھوڑے پر ہاتھ رکھا، کسی نے کوئی اور کسی نے کوئی چیز۔۔۔۔ایاز پُرسکون انداز میں اٹھا اور جا کر بادشاہ کے سر پر یا کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا، اب سلطان نے سارے وزیروں کو پھر اپنے پاس بلایا اور انکی موجودگی میں ایاز سے پوچھا کہ جب سب لوگ اپنی اپنی پسند کی چیز پر ہاتھ رکھ رہے تھے، تو تم نے آکر میرے سر پر ہاتھ کیوں رکھا؟؟؟؟
اس نے کہا بادشاہ سلامت جس نے تجوری مانگی، اسے تجوری مبارک اور جس نے گھوڑا مانگا اسکو گھوڑا ملے گا۔۔۔۔میں نے آپ کے سر پہ ہاتھ۔۔۔۔اس لیے رکھا ہے کہ جب آپ میرے ہو جائیں گے تو ساری سلطنت میری ہو جاۓ گی۔
بلا تشبیہ جس کا اللّہ ہو جائے تو ساری کائنات اس کی ہو جاتی ہے۔۔۔اللّہ کریم کا ارشاد گرامی ہے:
ولقد كتبنا فی الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثها عبادي الصالحون
بلاشبہ ھم نے یہ بات زبور میں ذکر کے بعد لکھ دی تھی کہ زمیں کے وارث میرے نیک بندے ہیں۔
بابا فرید کا قصہ۔۔۔۔کسے ملے گا حصہ
کہتے ہیں ایک بڑھیا نے ایک قطعۂ زمین حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بطور نذرانہ پیش کی، کچھ عرصہ بعد بڑھیا فوت ہو گئی، تو اسکے رشتہ داروں نے بابا فرید پہ زمین پہ نا جائز قبضہ کا کیس کر دیا، عدالت کے بلانے پر آپ تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا۔۔۔میں نے ناجائز قبضہ نہیں کیا، درویشوں کا کیا کام کہ وہ لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے کرتے رہیں، بات دراصل یہ ہے کہ وہ بڑھیا مجھے تحفہ میں زمین دے گئی ہے، یہ زمین ہبہ کی حیثیت رکھتی ہے، فریق مخالف فورا بولا۔۔۔۔اگر ایسی بات ہے تو بابا فرید گواہ پیش کریں ۔۔۔۔جج بولا ھاں جی، بابا جی، گواہ پیش کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟
آپ نے فرمایا قاضی صاحب!
اسوقت تو کوئی بندہ موجود نہیں تھا، جسے میں بطور گواہ پیش کروں، ہاں اگر یہ لوگ زیادہ مجبور کرتے ہیں تو زمین سے پوچھ لیں وہ کس کی ہے؟؟؟؟
فریق مخالف نے تمسخرانہ انداز میں کہا، قاضی صاحب!
گھبرائیں نہیں یہ فقیر اسی طرح لوگوں کو خواہ مخواہ مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چلیں زمین سے پوچھ لیتے ہیں۔۔۔۔قاضی بھی چلا، فریق مخالف بھی، بڑی خوشی کے ساتھ جارہے تھا، کہ ابھی چند لمحوں کے بعد زمین کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو جائے گا، زمین بھی بھلا کبھی بولی ہے۔۔۔۔۔حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے، محبت الہی سے سرشار قاضی صاحب کے ساتھ زمین کی طرف جا رہے تھے، جب وہاں پہنچے، تو آپ نے فرمایا قاضی صاحب: اب میں نہیں بولوں گا، آپ خود ہی زمین سے پوچھ لیجئے۔۔۔۔زمین کس کی ہے۔
جب قاضی نے بلند آواز سے سوال کیا تو زمین کے چپے چپے سے آواز آ رہی تھی۔
میں فرید دی ھاں
میں فرید دی ھاں
میں فرید دی ھاں
میں فرید دی ھاں
یعنی
میں فرید کی ہوں۔
جس کا اللہ کریم ہو جائے تو پھر ساری کائنات اسکی ہو جاتی ہے تو روزہ یہ ایسا عمل ہے جس پر اللہ کریم کا اعلان ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور خود ہی اسکی جزا بن جاؤں گا۔
اللہ کریم ہمیں اس نعمت عظمٰی کی قدر دانی کی توفیق نصیب فرمائے آمین
بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم

بشکریہ : محمد حسن اعجاز

بی ایس اسلامک اسٹدیز

الکرم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ بھیرہ ضلع سرگودھا

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 5 / 5. Vote count: 1

No votes so far! Be the first to rate this post.

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Pin It on Pinterest

Translate »