“””””سائنس یا جادو یا شیطان”””””

5
(1)

“””””سائنس یا جادو یا شیطان”””””

خلیفہ ہارون الرشید (متوفی 809 عیسوی) نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی بھیجی

جو خالص پیتل سے بنی چار میٹر اونچی تھی اور پانی کے زور سے چلتی تھی

گھنٹہ پورا ہونے پہ گھڑی کے اندر سے گیند نکلتی تھی دو گھنٹے ہونے پہ دو گیندیں تین گھنٹے ہونے پہ تین گیندیں نکلتی تھیں

گیند نکلنے کے وقت خوبصورت آواز پیدا ہوتی تھی
اُسی وقت گھڑی کے بارہ دروازہ میں سے ایک دروازہ کھل جاتا تھا

اس میں سے گھوڑے سوار نکلتے تھے جو گھڑی کے دائرے کا چکر لگا کر واپس اُسی جگہ داخل ہو جاتے تھے

بارہ بجے بارہ دروازہ کھلتے بارہ گھڑ سوار نکل کر چکر لگا کر واپس چلے جاتے تھے

فرانس کا بادشاہ اسکو دیکھ کر دہشت زدہ ہوگیا۔

اس کے پادریوں نے کہا کہ اس گھڑی کے اندر شیطان ہے جو اسکو اندر سے چلا رہا ھے
وہ سب ملکر رات کے وقت گھڑی کے پاس آئے کہ شاید شیطان سوگیا ہوگا

انہوں نے گھڑی کھول ڈالی
اندر سے سوائے گھڑی کے آلات کے کچھ نہ ملا

بادشاہ بہت پریشان ہوگیا کہ ایک نایاب شے خراب کر دی
اس نے ملک کے تمام ماہر و تجربہ کار جمع کیئے مگر کوئی درست نہ کر سکا

کسی نے مشورہ دیا کہ خلیفہ ہارون الرشید کو پیغام بھیجیں وہ کسی مسلمان کاریگر کو بھیجیں جو اس گھڑی کو درست کر دے

بادشاہ نے کہا
مجھے شرم آرہی ھے کہ خلیفہ جان نہ لے کہ ھم فرانس کے نام پہ دھبہ ہیں کہ ایک گھڑی بھی مرمت نہ کر سکے

یہ مسلمانوں کا عروج تھا
جب یورپ مسلمانوں کی سائنس کو جادو و شیطان سمجھتے تھے۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 5 / 5. Vote count: 1

No votes so far! Be the first to rate this post.

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Please follow and like us:

Pin It on Pinterest

Translate »